نئی دہلی،25اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ڈیرہ سچا سودا سربراہ کے خلاف سی بی آئی کورٹ میں آئے فیصلے کے بعد پچکولا سمیت ہریانہ کے زیادہ تر حصوں میں تشدد بھڑک گیا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ ڈیرہ کے حامیوں نے گزشتہ تین دنوں کے لئے سرسا، چنڈی گڑھ، پنچولہ سمیت دیگر مقامات پر جمع ہو گئے تھے۔فیصلے کے بعد تشددبھڑسکتاہے، اس بات کا خدشہ کورٹ سے لے کر حکومت، انتظامیہ اور یہاں تک کہ عام آدمی تک کو تھا پھر بھی ہریانہ حکومت نے اس ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پختہ انتظامات نہیں کئے،ہر ایک اسے ہریانہ حکومت کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہا ہے،یہ جاٹ تحریک کے بعد ہریانہ حکومت کی دوسری ناکامی ہے۔
پہلے جاٹ تحریک اور پھر ڈیرہ سچا سودا معاملے میں ہریانہ میں بھڑکے تشدد کے بعد ماہرین مان کر چل رہے ہیں کہ ہریانہ حکومت کسی بڑے واقعہ کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔بات اگر ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ کے خلاف سی بی آئی کورٹ میں آئے فیصلے کی کریں تو اس معاملے پر ہائی کورٹ ہریانہ حکومت کو دو دن پہلے ہی سخت پھٹکار لگا چکی ہے کہ جب دفعہ 144لگی ہوئی ہے تو ڈیرہ حامی کس طرح جگہ جگہ جمع ہوئے۔اس بات کوکیوں یقینی نہیں بنایاگیاکہ انہیں ہٹایاجائے ؟ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ دوپہر 2.30بجے گرمیت رام رحیم کو مجرم قرار دیتے ہی ان کے حامی بے قابو ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پچکولا، چنڈی گڑھ، سرسا سمیت کئی جگہوں پر بغاوت، آگ زنی اورتشددکے واقعات شروع ہوگئے،30افرادسے زیادہ ہلاک ہوئے، سینکڑوں زخمی ہوئے۔اگر پورے واقعے کی تہہ تک جائیں تو گزشتہ سال فروری میں ہوئی جاٹ تحریک کامنظردکھ رہاہے۔
بتادیں کہ اکھل بھارتیہ آرکشن آندولن نے فروری میں ریزرویشن کے مطالبہ کے لئے شدت پسندی شروع کی تھی۔اس وقت بھی تحریک کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے بڑی تیاریاں کی تھیں، لیکن روہتک میں سڑکوں پر شروع ہوئی تحریک کب پر تشدد ہو گئی، حکومت کو پتہ ہی نہیں چلا اور سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔آندولن سمیتی نے 14فروری کو روہتک، سنٹال میں جاٹ ریزرویشن کانفرنس سے خطاب کیا۔کانفرنس کے فورا بعدمظاہرین نے روہتک - دہلی ہائی وے کو روک دیا۔اس پر تشدد تحریک میں 30سے زائد افراد مرے،بہت سی خواتین کے ساتھ بدسلوکیاں ہوئیں اور حکومت اور نجی ملکیت کے سینکڑوں کروڑروپے کی جائیدادکانقصان ہوا۔مظاہرین نے پنچوکلہ میں میڈیا وین کو تباہ کردیا۔عدالت کے فیصلے کے بعد، ناراض حامیوں کے غصہ کاخمیازہ صحافیوں کو برداشت کرنا پڑا۔